اسلامی · زکوٰۃ · حنفی (دیوبندی)
زکوٰۃ کیلکولیٹر 2026
پاکستان میں زکوٰۃ آپ کے خالص قابلِ زکوٰۃ مال (جو کچھ آپ کے پاس ہے، منفی واجب الادا قرض) کا 2.5% ہے، جب یہ نصاب کو پہنچ جائے، یعنی آج کی قیمت پر 52.5 تولہ چاندی کی مالیت (سونے کا نصاب، 7.5 تولہ، صرف اس صورت کے لیے ہے جب اکیلا سونا ہو)۔ Rs 1,000,000 پر یہ Rs 25,000 ہے۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اور آج کی فی تولہ قیمت لکھیں؛ اگر آپ کے بینک نے یکم رمضان کو زکوٰۃ کاٹی ہے تو وہ بھی لکھیں۔
| مد | رقم |
|---|---|
| قابلِ زکوٰۃ اثاثے | Rs 900,000 |
| منفی: واجب الادا قرض | − Rs 100,000 |
| خالص قابلِ زکوٰۃ مال | Rs 800,000 |
| نصاب (مثال کے لیے: بینک کٹوتی کی حد) | Rs 503,529 |
| زکوٰۃ بشرح 2.5% | Rs 20,000 |
| منفی: بینک کی کاٹی ہوئی زکوٰۃ | − Rs 0 |
| باقی ادائیگی | Rs 20,000 |
نصاب
زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے، اور اسے کیسے نکالا جائے؟
ملے جلے مال کے لیے نصاب 52.5 تولہ (612.35 گرام) چاندی کی مالیت ہے: آج کی چاندی کی فی تولہ قیمت کو 52.5 سے ضرب دیں۔ سونے کا نصاب، 7.5 تولہ (87.48 گرام) سونا، صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے جب آپ کے پاس صرف سونا ہو؛ اگر سونے کے ساتھ کچھ بھی نقد، چاندی یا مالِ تجارت ہو تو مجموعی مالیت کو چاندی کے نصاب سے جانچا جاتا ہے۔ یہ دارالافتاء بنوری ٹاؤن کا بیان کردہ دیوبندی (حنفی) موقف ہے، اور چونکہ یہ کیلکولیٹر آپ کا سارا مال جمع کرتا ہے، اس لیے یہ چاندی کا نصاب استعمال کرتا ہے۔ نصاب کیلکولیٹر دونوں نصاب روپوں میں دکھاتا ہے۔
کون سے قرض منہا ہوتے ہیں؟
وہ قرض جو آپ کے زکوٰۃ کے سال کے اختتام تک واجب الادا ہوں۔ قسطوں میں ادا ہونے والے قرض، جیسے مکان، گاڑی یا کاروباری قرض، میں صرف وہ قسطیں منہا کریں جو آپ کے زکوٰۃ کے سال کے اختتام تک واجب ہوں، پورا باقی قرض نہیں۔
2026 میں بینکوں کی کاٹی جانے والی زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
Rs 503,529، زکوٰۃ سال 1446-47 ہجری کے لیے، جیسا کہ وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے 16 فروری 2026 کے نوٹیفکیشن سے رپورٹ ہوا۔ بینکوں نے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت یکم رمضان 1447 (19 یا 20 فروری 2026) کو ان سیونگ، نفع و نقصان میں شراکت اور اسی طرح کے اکاؤنٹس سے 2.5% کاٹا جن میں کم از کم اتنی رقم تھی؛ پچھلے سال یہ عدد Rs 179,689 تھا۔ اس صفحے کے ذرائع پڑھے جانے تک رمضان 1448 کا عدد نوٹیفائی نہیں ہوا تھا۔
عملی مثال
Rs 10 لاکھ پر کتنی زکوٰۃ ہے، اور قرض کے ساتھ کتنی؟
Rs 25,000۔ زکوٰۃ خالص قابلِ زکوٰۃ مال کا 2.5% ہے، اور Rs 1,000,000 کا 2.5% Rs 25,000 بنتا ہے۔ اگر آپ کے بینک نے یکم رمضان کو یہی رقم کاٹ لی تو اس بیلنس پر کچھ باقی نہیں (Rs 0)۔
قرض کے ساتھ یہ کم ہوتی ہے۔ اوپر کے جدول میں Rs 900,000 کا نقد، سونا اور شیئرز ہیں اور Rs 100,000 کا واجب الادا قرض، اس لیے خالص مال Rs 800,000 ہے۔ یہ مثال کے Rs 503,529 والے نصاب (بینک کٹوتی کی حد؛ آپ کا اپنا نصاب آج کی قیمت پر 52.5 تولہ چاندی ہے) سے زیادہ ہے، اس لیے زکوٰۃ Rs 20,000 ہے (Rs 800,000 کا 2.5%)۔
کون سا زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں؟
ملے جلے مال کے لیے یہی استعمال کریں؛ جب ایک ہی قسم کا اثاثہ غالب ہو تو اس کا مخصوص کیلکولیٹر استعمال کریں۔
- زکوٰۃ نصاب کیلکولیٹر: آج کی سونے اور چاندی کی قیمت سے نصاب روپوں میں
- سونے اور چاندی پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: وزن اور کیرٹ کے لحاظ سے سونے اور چاندی پر زکوٰۃ
- شیئرز اور اسٹاکس پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: شیئرز اور میوچل فنڈز
- کاروباری مال پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: کاروباری مال اور مالِ تجارت
- پلاٹ اور پراپرٹی پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: فروخت کے لیے رکھے گئے پلاٹ اور جائیداد
- کرایہ آمدنی پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: نقد کی صورت میں موجود کرائے کی آمدنی
- پراویڈنٹ فنڈ اور پنشن پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: پنشن اور پراویڈنٹ فنڈ کے بیلنس
- مویشیوں پر زکوٰۃ کیلکولیٹر: اونٹ، گائے بیل، بھیڑ اور بکریاں
- عشر کیلکولیٹر: فصل پر عشر
آپ کا بینک
کیا بینک کو زکوٰۃ کاٹنے سے روکا جا سکتا ہے؟
جو مسلمان اکاؤنٹ ہولڈر عقیدے اور فقہ کی بنیاد پر مقررہ حلف نامہ (فارم CZ-50) بروقت بینک میں جمع کرا دے، اس پر یہ کٹوتی لاگو نہیں ہوتی؛ غیر مسلموں پر یہ لاگو ہی نہیں ہوتی۔ آرڈیننس کے تحت بینک کی کاٹی ہوئی زکوٰۃ اوپر لکھی جاتی ہے اور منہا ہو جاتی ہے؛ اپنے عالمِ دین سے پوچھیں کہ کیا اس سے آپ کا فریضہ ادا ہو جاتا ہے۔
کیا زکوٰۃ انکم ٹیکس سے منہا ہوتی ہے؟
صرف وہ زکوٰۃ جو زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے تحت ادا کی گئی ہو۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا سیکشن 60 "کسی شخص کی طرف سے کسی ٹیکس سال میں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس، 1980 کے تحت ادا کی گئی کسی بھی زکوٰۃ کی رقم کے لیے قابلِ کٹوتی الاؤنس" دیتا ہے۔ یہ اس زکوٰۃ پر لاگو نہیں جو پہلے ہی سیکشن 40(2) کے تحت شمار ہو چکی ہو: جہاں قرض پر منافع (بینک منافع) ادا ہوتے وقت اس سے زکوٰۃ کاٹی جائے، وہاں سیکشن 40(2) اسے اسی منافع کے مقابل منہا کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس لیے دوسری بار اس کی اجازت نہیں۔ نجی طور پر ادا کی گئی زکوٰۃ اس میں شامل نہیں، اور جو الاؤنس سال میں استعمال نہ ہو سکے وہ نہ واپس ملتا ہے، نہ آگے منتقل ہوتا ہے نہ پیچھے (سیکشن 60(3))۔ انکم ٹیکس کیلکولیٹر ٹیکس کا حساب کرتا ہے۔
نتیجہ پڑھنا
زکوٰۃ آمدنی پر ہے یا مال پر؟
موجود مال پر۔ زکوٰۃ کا 2.5% اس مال پر لگتا ہے جو واجب الادا قرض کے بعد آپ کی زکوٰۃ کی تاریخ پر آپ کے پاس باقی ہو، اس پر نہیں جو آپ نے سال بھر میں کمایا: جس نے بہت کمایا اور خرچ کر دیا اس پر کم واجب ہے، جس نے بچایا اس پر زیادہ۔ زکوٰۃ مال پر ایک قمری سال، یعنی تقریباً 354 دن، گزرنے کے بعد واجب ہوتی ہے، اس لیے عیسوی کیلنڈر کے لحاظ سے یہ تاریخ ہر سال تقریباً گیارہ دن پہلے آ جاتی ہے۔
یہ کہاں رکتا ہے
یہ آپ کے لکھے ہوئے اعداد سے حساب کرتا ہے۔ یہ آپ کے لیے یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کوئی خاص اثاثہ قابلِ زکوٰۃ ہے یا نہیں، جیسے پلاٹ (بیچنے کے لیے خریدا گیا یا رہنے کے لیے) یا دوسروں کے ذمے وہ رقم جو شاید کبھی نہ ملے؛ اپنے عالمِ دین سے پوچھیں۔ زیورات کا بیان سونے اور چاندی والے صفحے پر ہے۔
عام سوالات
زکوٰۃ کیلکولیٹر کے بارے میں سوالات
پاکستان میں کتنی زکوٰۃ واجب ہے؟
خالص قابلِ زکوٰۃ مال (نقد، سونا اور چاندی، سرمایہ کاری، کاروباری مال اور دوسروں کے ذمے آپ کی رقم، منفی واجب الادا قرض) کا 2.5%، جب یہ مال نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ Rs 1,000,000 خالص مال پر یہ Rs 25,000 ہے؛ Rs 900,000 کے اثاثوں اور Rs 100,000 کے قرض کے ساتھ یہ Rs 20,000 ہے۔
زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
نقد، بچت، شیئرز، کاروباری مال، یا ان میں سے کسی کے ساتھ سونے کے لیے: آج کی قیمت پر 52.5 تولہ (612.35 گرام) چاندی کی مالیت، یعنی آج کی چاندی کی فی تولہ قیمت کو 52.5 سے ضرب دیں۔ سونے کا نصاب، 7.5 تولہ (87.48 گرام) سونا، صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے جب آپ کے پاس صرف سونا ہو۔ یہ دارالافتاء بنوری ٹاؤن کا بیان کردہ دیوبندی (حنفی) موقف ہے۔ یکم رمضان 1447 کو بینک کی کٹوتی کے لیے نوٹیفائیڈ نصاب Rs 503,529 تھا، جیسا کہ رپورٹ ہوا۔
2026 میں بینک کی کٹوتی کے لیے زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
Rs 503,529، زکوٰۃ سال 1446-47 ہجری کے لیے: جس سیونگ یا نفع و نقصان میں شراکت (پی ایل ایس) اکاؤنٹ میں یکم رمضان 1447 کو اس سے کم رقم تھی، اس سے زکوٰۃ نہیں کاٹی گئی (وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کا 16 فروری 2026 کا نوٹیفکیشن، جیسا کہ رپورٹ ہوا)۔ پچھلے سال یہ Rs 179,689 تھا۔ اس صفحے کے ذرائع پڑھے جانے تک رمضان 1448 کا عدد نوٹیفائی نہیں ہوا تھا۔
کیا بینک کو زکوٰۃ کاٹنے سے روکا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، اگر آپ مسلمان اکاؤنٹ ہولڈر ہیں اور کٹوتی کی تاریخ سے پہلے عقیدے اور فقہ کی بنیاد پر بینک میں مقررہ اقرار نامہ (فارم CZ-50) جمع کرا دیں۔ کرنٹ اکاؤنٹس پر یہ کٹوتی لاگو نہیں ہوتی، جیسا کہ رپورٹ ہوا۔ پھر زکوٰۃ خود ادا کریں۔
کیا پاکستان میں زکوٰۃ انکم ٹیکس سے منہا ہوتی ہے؟
صرف وہ زکوٰۃ جو زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت ادا کی گئی ہو۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا سیکشن 60 اسے اس ٹیکس سال میں قابلِ کٹوتی الاؤنس بناتا ہے جس میں یہ ادا کی گئی، سوائے اس زکوٰۃ کے جو منافع ادا ہوتے وقت قرض پر منافع کے مقابل سیکشن 40(2) کے تحت پہلے ہی منہا ہو چکی ہو، جو دو بار منہا نہیں ہوتی۔ نجی طور پر ادا کی گئی زکوٰۃ اس میں شامل نہیں، اور استعمال نہ ہونے والا الاؤنس نہ واپس ملتا ہے نہ اگلے یا پچھلے سال میں منتقل ہوتا ہے۔
کیا سارے قرض منہا کیے جائیں؟
نہیں۔ وہ قرض منہا کریں جن کی ادائیگی اس وقت واجب ہے۔ قسطوں میں ادا ہونے والے قرض، جیسے مکان یا گاڑی کے قرض، میں صرف وہ قسطیں منہا کریں جو آپ کے زکوٰۃ کے سال کے اختتام تک واجب الادا ہوں، پورا باقی قرض نہیں (دارالافتاء بنوری ٹاؤن)۔
ذرائع
یہ اعداد کہاں سے آتے ہیں
- Income Tax Ordinance 2001 as amended up to 30 June 2026 (FBR), section 60: Zakat paid under the Zakat and Ushr Ordinance is a deductible allowance
- APP: nisab of Zakat notified at Rs 503,529 for Zakat year 1446-47 A.H. (Ministry of Poverty Alleviation and Social Safety, 16 February 2026)
- Business Recorder: Ramazan 2026, minimum nisab fixed at Rs 503,529 for Zakat
- دارالافتاء بنوری ٹاؤن، فتویٰ 144608101364: سونے کا نصاب صرف اس سونے کے لیے ہے جو اکیلا ہو؛ نقد، چاندی یا مالِ تجارت کے ساتھ سونے کو چاندی کے نصاب سے جانچا جاتا ہے
- دارالافتاء بنوری ٹاؤن، فتویٰ 144111201374: قسطوں میں ادا ہونے والے قرض میں صرف وہ قسطیں منہا ہوتی ہیں جو زکوٰۃ کے سال کے اختتام تک واجب الادا ہوں
اسٹیٹ بینک کا وہ سرکلر جس میں 2026 کا نوٹیفکیشن ہے، پڑھا نہیں جا سکا (اس پر رسائی کی خرابی آئی)، اس لیے بینک کٹوتی کے اعداد اوپر کی رپورٹوں سے لیے گئے ہیں۔ نصاب اور قرض کے احکام دیوبندی (حنفی) موقف کے مطابق ہیں؛ فتاویٰ کے لنک دیے گئے ہیں اور ان کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، انہیں نقل نہیں کیا گیا۔ پڑھنے کی تاریخ: ۔
متعلقہ ٹولز
وراثت کا معاملہ بھی درپیش ہے؟
ہمارے مخصوص کیلکولیٹر سے اسلامی وراثت کے حصوں کے مطابق ترکہ تقسیم کریں۔
اسلامی وراثت کیلکولیٹر کھولیں